STRATEGIES MAKING WEATHER TO WORK FOR BUSINESS
June 24, 2020
WEATHER SENSITIVITY OF PRODUCTS
June 25, 2020

!نظریہ ارتقاء اور کرونا کا وبائی تعلق

Crona Virus

بچپن میں ایک کہانی سنا کرتے تھے جس کے مرکزی کردار کو ایک گھاٹی کا سفر درپیش ہوتا ہے۔ اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ آوازوں پہ مڑ کے نہی دیکھنا۔ اگر مڑے تو پتھر کے ہوجائو گے۔ بیالوجیکل ارتقاء کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ماجرا پیش آیا۔ لاکھوں کروڑوں برسوں سے چپکے چپکے چلی آتی تھی کہ سمندر کی مچھلیاں ارتقاء پا پا کر دھڑا دھڑا بندر سے بن مانس بن بن انسانوں کا روپ دھار رہی تھیں۔ انسانوں کی آبادی کو تو جیسے پہیے لگے ہوئے تھے کہ انکل ڈارون نے آواز لگادی کہ بی بی ارتقاء کہاں چپکے چپکے۔اب ارتقاء بیچاری کی کوئی دادی نانی تو تھی نہی جو اس کو بتاتی کہ مڑ کہ نہی دیکھنا ۔ یہ بیچاری بھگت نما ڈارون کی آواز سے متاثر ہو کے اسے دیکھ بیٹھی۔ پھر کیا تھا ، اسے تو جیسے بریک لگ گئی۔
ارتقاء کو لگا کہ یہ تو رنگے ہاتھوں دھر لی گئی ہے اور جس نے پکڑا ہے وہ چہرے مہرے سے ہے بھی بڑا درویش۔ لوگوں نے اس کی بات کا یقین کرلینا ہے اور اور کچھ کریں نہ کریں کرونا ہی کردیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اس نے عافیت اسی میں جانی کہ چپکے سے اس گولے سے نکل کر مریخ گولے جا ٹھہرے۔ وہ دن اور آج کا دن ، ارتقاء کا کوئی نام و نشان نہی ملتا۔ لاکھ کوششیں کرلیں مریخ پہ جا جا کہ اسے ڈھونڈ کے واپس لے آئیں لیکن وہ ملنے کو نہی دیتی۔ اگر چاچا ڈارون چھیڑ خانی نہ کرتا تو اب تک انسان کے پر نکل آئے ہونے تھے کہ کب تک یہ بیچارا عرب ممالک کے تیل پر انحصار کرے۔ ویسے بھی پاکستان ایسے غریب ممالک کے لوگ ارتقاء کو ہی افورڈ کرسکتے ہیں ۔ اس مہنگائی میں ان کے بس کی بات نہی کہ جہاز اڑائے پھریں۔
یہ بھی اپنے اپنے شوق کہ بات ہے کہ کسی کو تو پر نکل آنے تھے اور کسی دو پہیے کہ بہت سے لوگ ہیوی بائیک کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ مزہ تو تب آتا جب دونوں ہاتھ اور پائوں پہیوں میں بدل کر گور وہیل میں کنورٹ ہوتے۔ اب جو ذرا لمبے قد کے ہیں ان کی تو عیاشی تھی کہ مدت میں لیموزین اور بی ایم ڈبلیو کے ماڈل بنے ہوتے۔ جن کا قد درمیانہ ہے ان کو ایکس ایل آئی پہ گذارانا کرنا پڑتا اور چھوٹے ود والے بیچارے مہران ہی بن پاتے۔ بہر حال ایک خوبی سب میں یکساں پائی جاتی کہ یا تو وٹامن ڈی لے کر سورج کی روشنی ہی فیول کے طور استعمال کرتے یا پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ ایسے ویسٹس کو فیول کے طور پر استعمال کرتے۔ یوں ایک ایکو فرینڈلی اکنومیکل نظام ترتیب پاتا۔
لیکن اب تو یہ سب قصہ ہوچکا ۔ اب اپنے کرموں کا کیا بھگتنا پڑے گا حضرت انسان کو۔ اور انسان کو ہی کیا چرند پرند سب کی ترقی کو فل سٹاپ لگ گیا۔ بندر بیچاروں کی قسمت میں بندر رہنا ہی رہ گیا۔ کیا خبر مارگلہ ہلز سے کتنے ہی بندر جو آج سیاحوں کی ٹوپیاں نوچتے پھرتے ہیں ، انسان ہوکر سیاح بنے پھرتے۔ لیکن ہونی ہو کے رہتی ہے۔ انکل ڈارون نے چلا کاٹنا تھا ، جس کے سائیڈ ایفیکٹس کے بطور ارتقا کو سیلف ایگژائل پہ جانا پڑگیا۔
انکل ڈارون کے جانشین ویسے کوششوں میں لگے ہیں کہ کسی طور مریخ پہ ارتقاء مل جائے۔ ارتقاء آپ نہ سہی بس وہاں اس کے نتیجے میں نامیاتی مادوں سے مرتب ذندگی کسی طرح ہتھے چڑھ جائے ، اگر مریخ کو بھی کرونا لگا کہ نہ چھوڑا تو بندر ان کے اجداد نہی

About Writer:

Hafiz Umar Jarar : Electric Engineer from BZU Multan, I write to share my thoughts about my Country,Society and Culture.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *