WEATHER SENSITIVITY OF PRODUCTS
June 25, 2020
Rana Umer
راجا گدھ انسانوں کی بستی میں
July 4, 2020

کھیلتے بادل اور ٹھنڈا بھوت

پچھلے ھفتے میں ٹیرس پہ بیٹھی بادلوں کو دیکھ رھی تھی
بادلوں میں طرح طرح کی اشکال ابھر رھی تھیں اور ھوایئں ان اشکال کی شکل بدل رھی تھیں
مرحوم والدہ محترمہ کی یاد آئ
موسم گرما کی شاموں میں صحن میں ھمارے ساتھ لیٹ کر
ھمارے ساتھ بادلوں کا مشاھدہ کرتی تھیں
” وہ دیکھو ریچھ اڑتا ھوا ارھا ھے
وہ دیکھو کتنا بڑا پرندہ ھے

ارے ارے وہ دیکھو پرندہ تو خرگوش بن گیا
ھاتھی میاں کی دم گم ھوگئ
مگر مچھ ریچھ کو نگل گیا
اف
اتنا بڑا بھوت
ھماری آنکھیں پھٹ جاتی تھیں
پھر وہ ھی بھوت اگلے لمحے اک فرشتے کی شکل اختیار کرلیتا اور ھم سکھ کا سانس لیتے

ھم چارپائ پہ لیٹے اپنی گردنیں موڑ موڑ کر تمام آسمان پہ پھیلے جنگل کے جانوروں کی صورتیں اورمورتیں بدلتے دیکھتے
اور ھمارا تخیل پرورش پاتا

امی جی کی انگلی تیزی سے ھوا میں دایئں سے بائیں آگے پیچھے بادلوں کے ساتھ متحرک رھتی
ھوا چند ھی سیکنڈ اور منٹ میں نئ تخلیق ..نئ اشکال کی مصوری سے نیلے آسمان کو سجاتی رھتی اور ھم فرشتوں کا بنایا ھوا سنیما کو چارپائ پہ لیٹے دیکھتے اور بغیر ٹکٹ کے لطف اندوز ھوتے تھے
پھر امی جان ھمیں کہانی سناکر آیتہ الکرسی پڑھ کر پھونک مارتی تھیں
ھماری نگاھیں ستاروں سے سجے آسمان پر پریوں کو تلاش کرتے کرتے بند ھوجاتیں اور ھم بونوں کی دنیا میں گم ھوجاتے
………
پھر کیا ھوا ؟
ھماری فطرت سے بندھی
پر سکون دنیا کے کچھ حصوں میں ائیر کنڈیشن نام کا ٹھنڈا بھوت آگیا
اسکی ٹھنڈی جادوئ پھونکوں نے بہت سے بچوں کو مچھروں اور گرمی کی شدت سے ڈرا کر
سہل پسندی کے خواب دکھا کر بندکھڑکیوں کے
بند کمروں میں پلاسٹک اور فوم کے نرم بستروں پہ پہنچا دیا
رنگین پاوں کی چارپائیاں سٹور میں چلی گیئں
یا ملازمین کو دیدی گیئں
کھڈی پہ بنی سوت کی رنگین دریاں تہہ کرکے پیٹیوں میں رکھ دی گیئں
اب ٹھنڈے کمرے میں لیٹے چھت پہ کیا دیکھتے . وھاں تو صرف فلپس کا پنکھا لٹکا تھا
نہ کوئ ریچھ تھا نہ ھاتھی
نہ ھی ریچھ کو نگلنے والا مگر مچھ
نہ ھی ستارے اور نہ ھی چندا ماموں
نہ ھی فرشتے اور نہ پریاں

پھر بچے ماں باپ کے ساتھ
ٹی وی کے چمکتے بھوتوں کو کارٹونوں کو دیکھتے دیکھتے کہانی سنے بغیر سونے لگے

تخیل کی متحرک دنیا بھی سونے لگی
بچے ٹوم اینڈ جیری کے تشدد سے بھرپور کارٹون دیکھنے لگے
پریاں اور فرشتے اڑ کر کسی اور دنیا میں چلے گئے
چاند تارے ماند پڑگئے. کہکشاں بکھر گئ. تاروں اور سیاروں کا علمی دائرہ فلک سے نکل کر کسی اور آفاق میں گم ھوگیا

باھر تو ھوا کے جھونکے سلادیتے تھے
جھینگر جگا دیتے تو بچے انہیں ڈھونڈتے پھرتے
اب بجلی زیادہ جانے لگی
لوگوں نے بجلی کا جنریڑ لگوا کر رات کا سکوت توڑ دیا
اور ائر کنڈیشن اندر تو ٹھنڈی پھونکیں مارتے تھے مگر اپنی تمام تپش سے باھر کی دنیا میں مزید گرمی پھیلا دی
گلیشیئر پگھلنے لگے
زمین سوکھنے لگی
درختوں کو آگ لگنے لگی
جھینگروں کی آواز دب گئ
بچے بور ھونے لگے
تو
ان کے ننھے ھاتھوں میں موبایئل پکڑا دئیے گئے
آسمان پہ کھیلے جانے والے سینما کا رواج ختم ھوگیا
اب چھوٹی سی سکرین پہ ایک آنکھ والے بھوت معصوم بچوں کو بہلانے لگے
اور بچے سہم کر ڈر سے آنکھیں بند کرکے سونے لگے
…………..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *