کھیلتے بادل اور ٹھنڈا بھوت
July 1, 2020
Tesla is now worth more than Toyota, Disney and Coke
July 8, 2020

راجا گدھ انسانوں کی بستی میں

Rana Umer

جنگل بدری کے بعد گدھ راجا اپنی جاتی کو لے کر گام گام پھرتا رہا۔ اس کی سوچ تهی کہ شہروں کے لوگ اڑوس پڑوس سے بے پرواہ ؛ خود غرضی کی ذندگی میں مست ہوتے ہیں۔ خوشی غمی کا احساس انکے نذدیک تجارت سے رتی بهر بهی جدا نہ ہے۔ بین الثقافتی امتزاج اور مزاج کے باعث کسی ذی روح کو اس جاتی کی آمد اور رہن سہن پر اعتراض نہ ہوگا۔ جہاں بهرے بازار میں ظلم کا ڈنکا بجتا ہو ، بهلا کسے پڑی ہے کہ وہ جنگل کی کہانی دہرائے۔ ویسے بهی جنگل کا اپنا قانون ہے ؛ انسانوں کا اس سے کیا لینا دینا۔ جنگلوں میں ابهی تک قدامت پرستی کی وبا عام ہے. اقربا پروری عروج پر ہے۔ ہم جنس پرستی کا تو کوئی سوچ بهی نہی سکتا۔ اپنے پرائے کا حساب رکها جاتا ہے۔ کسی نر یا مادہ کی جرات نہی ہوتی کہ وہ دوسری جنس والوں کے ساتھ تعلقات استوار کرسکیں۔ گوشت خور پهلوں کو نہی چهوتے اور سبزہ کهانے والے گوشت کو ۔ نہ گدهے کو گلقند کا پتا ہے اور نہ ہی بندر ادرک کے صواد سے واقف ہیں۔

سبهی جانور اپنے اپنے کنووں کے مینڈک بنے ہوئے ہیں۔ جرگوں میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ کوٹ کچہری جیسی جدید نعمتوں سے انجان ہیں. جنگل کا قانون ہے جسے توڑنے پر ظالمانہ سزائیں نہ صردف سنائی جاتی ہیں بلکہ مجرم کو ان سے دوچار بھی ہونا پڑتا ہے۔ ان سزائوں کی شدت کو سن ، جان کر جدت سے لبریز مہذب دنیا کے خدا جانے کون کون سے رونگھٹے کھڑے ہوں۔ اب گدھ راجا کے معاملے کو ہی دیکھ لو ، کسی کو کیا حق پہنچتا تها کہ وہ ان کو انکے جمہوری حق سے محروم کریں۔ انکی ذندگی انکی مرضی۔ حلال کهائیں یا حرام ، کسی دوسری جاتی والوں کو اس سے فرق نہی پڑنا چاہیے تها۔ حقیقت تو یہ تهی کہ جنگل کے فرقہ پرست اور پتهر کے زمانے کی سوچ رکهنے والے جانور گدھ راجا کی ترقی پسند سوچ سے خائف تهے۔ پاگل پن کے دورے تو صرف بہانہ تها۔ اندیشہ تو اس بات کا تها کہ کہیں جدت کی لہر میں انکی بہو بیٹیاں میرا جسم میری مرضی نہ پکار اٹهیں۔ دوسرا خوف جو انہیں لاحق ہوگیا تها یہ کہ کہیں جنگل کی اسٹیبلشمنٹ کا سحر ہی نہ ٹوٹ جائے۔ چنانچہ گدهوں پر جنگل کی زمین تنگ کردی گئی۔

اپنے تئیں تو انتہا پسند سوچ نے گدھ راجا کو سزا دی تھی لیکن ہوا اس کے برعکس۔ بلیسنگ ان ڈسگائیز والا معاملہ ہوا کہ گدهوں کو من پسند ماحول میسر آگیا۔ انسانوں کی آبادی میں کسی کو اعتراض نہ تها کہ یہ کیا کهاتے ہیں ، کیا پیتے ہیں ، کیوں مرتے ہیں اور کیسے جیتے ہیں۔ الٹا یہاں انکے لئے رزق کی فراوانی تهی۔ اگر کسی کے ساته کوئی معاملہ درپیش آ بهی جائے تو جنگل کے برعکس یہاں کوٹ کچہری میں وکیل بهی میسر اور سستے داموں گواہ بهی موجود۔ اور تو اور کیس ایک بار عدالت داخل ہوجائے ، پھر دو چار نسلیں تو حکم امتناع پر ہی گزر بسر کرلیں۔ پهر جب کبهی لگے کہ فیصلہ خلاف آنا ہے ، برادری اکٹهی کی اور کسی سیاستدان کو جا کر اپنے ووٹوں کا یقین دلادیا۔ اب جمہوری معاشرہ ہے اور ووٹ کا بهی کوئی تقدس ہے تو آجائیگا کوئی این آر او یا ایمنسٹی اسکیم۔ ایسے میں کیا ہے کہ بچنے کی راہ نکل آتی ہے جس سے جمہور بهی خوش اور جمہوریہ بهی۔ عام آدمی کو اس سے فرق بهی کوئی نہی پڑتا۔ اسے تو بس جینے کے لئے اکسیجن ملتی رہے۔ پہلے بهی محنت مذدوری کرکے کهاتے تهے آگے بهی ایسے ہی چلنا ہے۔ نظام چلتا رہنا چاہیے ؛ اسی میں سب کی بقا ہے۔ یاد رہے سب میں وہی شامل ہیں بس جو نظام کے لئے ناگزیر ہیں۔

معاملہ گدھ راجا کے لئے بہرحال اتنا سادہ تها نہی جتنا وہ سمجھ بیٹها تها۔ انکا خیال تها کہ وہ شہروں میں بقائے باہمی کے جمہوری اصول سے مستفید ہوتے رہیں گے لیکن سائینس کی جدید سہولیات کا شہروں میں ارتکاز اس جاتی والوں کو بڑا بهاری پڑا۔ ویسے بهی گدھ جاتی والے کونفلکٹ آف کومن انٹرسٹ کے قائدے سے ابهی آگاہ نہ ہوئے تهے۔ جنگل کے باسیوں کو اعتراض تها کہ یہ دوسروں کا شکار کیا ہوا مردار کهاتے ہیں. یہی معاملہ ان کو یہاں درپیش آیا. اب گدھ جاتی کو شہر سے کیسے نکالا جائے. اسکے لئے انسانوں نے بیٹهک جمائی. جمہوری طریقے سے ووٹ کے استعمال سے انکو نکال نہی سکتے تهے ، اور کوٹ کچہری کے جهمیلے میں یہ پڑنا نہی چاہتے تهے۔ ایک درویش سیاستدان کی رائے کو اہمیت دی گئی. اسے گدھ جاتی کے پاگل پن والی بات کا پتا تها ۔ اس نے کہا کہ دریائوں کا رخ شہروں کی جانب موڑ لیا جائے. یہ پانی سے ڈرتے ہیں ، چنانچہ خود بخود شہر نکالا لےلیں گے.

اس تدبیر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلے تو دریائوں کے بند کمزور کیے گئے تاکہ مہذب طریقے سے ان کو راہ دکھائی جائے۔ جیسے ہی دریا سیلاب کا بہانا بھر کے شہری حدود میں داخل ہوئے، گھدھ راجا بمع رعایاسرپٹ نئی منزل کو دوڑ پڑا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ نئی منزل کیا ہو ۔ پہاڑوں کی پرواز کی ہمت نہی رہی تھی کیونک فرمایا جاچکا ہے کہ ” شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور۔” جنگل میں ان کا حقہ پانی بند ہوچکا اور شہر والوں نے پانی پانی کردیا ہے۔ اب ایک ہی جائے پناہ بچتی تھی اور وہ تھا لق دق صحرا ۔ چار و ناچار ان کو یہیں سکومت پذیر ہونا پڑا۔ لیکن یہاں آکر راجا گدھ کو لگا کہ وہ تو اپنی لنکا میں پدهار چکے ہیں. بادشاہت کے تمام لوازمات جیسے پہلے سے ہی تیار شدہ ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک کی دستیابی نے تو جیسے ان کے لئے جنت کا سا سماں باندهدیا ہو۔ یہاں موت کی سانجھے داری نے گدھ راجا کی نسلوں کی بقائ و تحفظ کی ضمانت لے لی۔ اس میں کچھ کریڈٹ شہر واسیوں کو بھی جاتا ہے کہ انہی گدھ جاتی کی لاچاری کا احساس تھا۔ انہیں اس بات کا ادراک بھی تھا کہ گدھ جاتی اگرچہ مظلوم ہیں لیکن ہیں یہ ترقی پسند سوچ کے حامل۔ اسی لئے ان کو اس دهرتی پہ ایک ملک دیدیا جائے جس پر وہ عیش و عشرت سے گزر بسر کرسکیں۔ پہلے پہل یہاں بهوک افلاس کا راج تها۔ قحط سے مرنے والوں کے لاشے الگ سے وباء پهیلاتے تهے. اب حالات قدرے بدل چکے ہیں. ڈاکٹر یہاں پہنچیں نا پہنچیں گدھ راجا کے سپاہی ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے مرنے والوں کا انتظار ضرور کرتے ہیں اور پهر ترکہ مل بانٹ کر کهاتے ہیں اور یہ قاعدہ بهی انہوں نے انسانوں سے ہی مستعار لیا ہے

:تحریر

رانا عمر فاروق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *